ٺڳيءَ جو ٺاھہ

اسان جي ملڪ ۾ منافقن جي ڪمي ڪونهي ، ڏينهن جو جن جي هٿن ۾ مذهب جو جهنڊو هوندو آهي رات جو انهن جي هٿ ۾ جام هوندو آهي ۽ جيڪي ڪامريڊ پاڻ کي مارڪسٽ سڏائيندي نہ ڍاپندا آهن ، سي ٽيليويزن جي نعتيہ مشاعرن ۾ نعت پڙهندي نظر ايندا آهن.
اسان جي ملڪ ۾ ڪميونسٽ ، ڪميونسٽ نہ آهي، اسان جي ملڪ ۾ ديندار ، ديندار نہ آهي، ٻئي منافق آهن، اسين سڀئي بزدل آهيون ۽ پنهنجي بزدليءَ جو علاج ڳولي رهيا آهيون.
امر جليل
ٺڳيءَ جو ٺاھہ

نوٽ؛ هي ٽڪرو سوشل ميڊيا تان کنيل آهي.

سيد علي بخش شاه ’ناز لطيفيءَ جو غزل

جي هڪ تنهنجو واعدو وفا ٿي پوي ها،
ته ڪجهه درد دل جي دوا ٿي پوي ها…
جي هڪ تنهنجو واعدو وفا ٿي پوي ها
ته ڪجهه دردِ دل جي دوا ٿي پوي ها
رهين ڪين ڪڏهين ڪا هڪ رات مون وٽ،
جي ترسي پوين ها ته ڇا ٿي پوي ها.
بِلو ٿي پوي ها غمِ دل جو جيڪر
بِمائل ڪرم دلربا ٿي پوي ها.
پِرين ڪِئن پري ٿي وڃي ها نظر کان.
جي منظور منهنجي دُعا ٿي پوي ها.
کڻين هان نه خنجر تون گردن تان قاتل.
ڀلي ڌڙ سِسِيءَ کان جدا ٿي پوي ها.
رکي سِرُ درِ يار تي پوءِ کڻان ڪيئن.
نمازِ محبت قضا ٿي پوي ها.
پُڇي ڀي نه ها ڪو دنيا ۾ خوشيءَ کي.
زمانو جي درد آشنا ٿي پوي ها.
جي سمجهين ها دل گهر خدا جو اي واعظ.
ته دلبر کي سِجدو روا ٿي پوي ها.
جي گهوريان ها سر هُن جي ناز و ادا تان.
ته الفت جو ڪجهه حق ادا ٿي پوي ها.
پڇان ها پرين کان مون ڪهڙي خطا ڪئي،
مگر هيءَ به هڪڙي خطا ٿي پوي ها.
کُلن ها خوشيءَ جا خزانا اسان لاءِ،
جي چشمِ ڪرم تنهنجي واه ٿي پوي ها.
سخا ڇا چوان شاههِ خُوبان جي يارو،
ٻُڌي ها جي حاتم گدا ٿي پوي ها.
چڱو ٿيو نقابن ۾ آئين صنم تون.
هتي ورنه قيامت بپا ٿي پوي ها.
لبن ساڻُ لب جي ملائين ها دلبر،
تنهنجي ڪهڙي اربع خطا ٿي پوي ها.
ڪاوڙ مَنجهائِي نهاريو ته ها پيا،
اها شوخ اَهنجي ادا ٿي پوي ها.
اجايو لطيفي کي، پيارا ٿا ماريو،
هو ازخود اوهان تان فدا ٿي پوي ها.

بسلسلہ یوم پاکستان

ارشد محمود
علامہ اقبال کو ‘مصور پاکستان’ اور پاکستان کے خواب سے منسوب کیا ہوا ہے۔ یہ قصہ بھی اپنے وقت کے ‘اوریا مقبول’ ٹائپ صحافیوں اورسیاست دانوں کی دین ہے۔ پاکستان کا کوئی بھی نوجوان اقبال کو پاکستان کا شہری ہی سمجھتا ہے۔ علامہ نے کبھی لفظ پاکستان استعمال نہیں کیا۔ حالانکہ ان کی زندگی میں چوہدری رحمت علی ‘پاکستان’ کے نام کا پروپیگنڈا کررہا تھا۔ علامہ نے ہمیشہ رحمت علی کے افکار سے اپنی مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا۔ جب علامہ اور رحمت علی کی تجویز کو خلط ملط کیا گیا، علامہ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا، “مصنف مغالطہ کا شکار ہے، جیسے میری تجویز پاکستان سے تعلق رکھتی ہے۔ میری تجویز انڈین وفاق کے اندر ایک مسلم صوبہ تخلیق کیا جائے ہے۔” علامہ کے زمانے میں الگ وطن کا تصور غیر واضح تھا۔ اور مسلم لیگ نے ابھی الگ وطن کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا۔ علامہ ہندو دشمنی سے کوسوں دور تھے۔ ان کے کلام میں ہمالہ، نیا شوالہ، ترانہ ہندی، اور ہندوستانی بچوں کا گیت، سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا۔ جیسی نظمیں ملتی ہیں۔حد یہ ہے، انہوں نے ایک نظم میں موتی لال اور جواہر لال نہرو کو ‘برہمن زادگان’ کہہ کر زکر کیا۔اقبال ‘وطن’ کے سیاسی تصور کو مسترد کرتے تھے۔ وہ ‘ملت’ کا ایک خیالی عالم گیر شاعرانہ تصور رکھتے تھے۔ “ہندووں کے دل میں کوئی خدشہ نہیں ہونا چاہئے، کہ آزاد اسلامی ریاستوں کے قیام سے ایک طرح کی مذہبی حکومت قائم ہو جائے گی۔۔اگر شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوستان کے جسد سیاسی میں رہ کر اپنے نشو ونما کا موقع دیا جائے، تو وہ تمام بیرونی حملہ آوروں کے خلاف ہندوستان کے بہترین محافظ ہونگے۔۔۔” (خطبہ الہ آباد)۔ وہ ‘اسلامی ہندوستان’ میں کوئی ہندو دشمن ریاست قائم نہ کرنا چاہتے تھے۔ جب کہ پاکستان برملا ہندو دشمن ریاست بنی۔ علامہ ابتدا میں سرسید کی فکر کے حامی رہے ہیں، کہ انگریز یہاں سے نہ جائے۔۔ملکہ وکٹوریہ کا مرثیہ لکھتے وہ خون کے آنسو روتے ہیں۔ جنگ عظیم اول میں برطانیہ کی فتح کا جشن مناتے ہیں۔ کئی انگریز حکمرانوں کی مداح سرائی میں نظمیں اور خطبے دیتے ہیں۔ جس میں وہ کہتے ہیں، ‘میرا سر قبول ہو۔۔نذر محقر قبول ہو۔۔۔’ انگریز کے سامنے ان کی یہ ‘حالت’ ملاظہ فرمائیں۔ 1923 میں ان کو سر کا خطاب دیا، 1927 تک وہ کالونیلزم کی فکر سے کوسوں دور تھے۔ اقبال کا کہنا تھا، ‘میں وطنی قومیت کو تسلیم نہیں کرتا، وطنی قومیت کا تصور اسلام کے خلاف ہے۔۔۔’ اگر علامہ کا یہ اصول مان لیا جائے، تو پاکستان کے مسلمانوں کی قومیت بھی سوالیہ نشان کی زد میں آ جاتی ہے۔ 1938 مارچ میں روزنامہ احسان میں ایک مشکوک مضمون شائع ہوا، جسے علامہ اقبال کا قرار دیا گیا، جب کہ وہ اس وقت ان کی بینائی اور گویائی بہت زیادہ متاثر ہو چکی تھی، وہ خود مضمون لکھ ہی نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے کھبی جذباتی اوریا مقبول لہجہ کی اردو لکھی نہ تھی، وہ کسی بھی سنجیدہ موضوع پر اپنا اظہار انگریزی میں کیا کرتے تھے۔ جب کہ مذکورہ (جعلی) مضمون میں ان کے نام سے نہائت جذباتی اسلامسٹ تقریر پیش کردی گئی۔ جو ان کا مزاج ہی نہ تھا “۔۔۔۔ہم چاہتے ہیں، ہندوستان ایک بڑی حد تک دارالسلام بن جائے، اگر آزادی ہند کا مطلب دارالکفر ہے، تو مسلمان ایسی آزادی پر ہزار مرتبہ لعنت بھیجتا ہے۔۔۔۔۔” بانگ درا سے ضرب کلیم تک اقبال نے ہمیشہ مذہبی منافرت سے گریز کیا۔ انہوں نے رام، کرشن،گرونانک ، سوامی رام تیرتھ اور بھرتری ہری جیسے لوگوں کے نام، افکار، اور خیالات کو پیش کیا۔ لیکن پاکستان میں نسل در نسل نفرت اور تعصب سے بھری مسخ تاریخ پڑھائی جارہی ہے۔ پاکستان کی ساری بنیاد نفرت اور جھوٹ پر رکھی ہوئی ہے۔ یہاں امن اور ترقی کیسے ہوسکتی ہے۔
(پروفیسر امجد علی شاکر کی کتاب ‘دو قومی نظرئے’ سے مدد لی گئی ہے)

Courtesy: above article adopted via facebook

میں اور شیطان

راجا مہدی علی خان
جنت کی دیوار پہ چڑھ کے ، میں اور شیطاں دیکھ رھے تھے
جو نہ کبھی ھم نے دیکھا تھا، ھو کے حیران دیکھ رھے تھے ۔ ۔
وادی جنت کے باغوں میں ، اف توبہ اک حشر بپا تھا
شیطان کے ھونٹوں پہ ھنسی تھی ، میرا کلیجہ کانپ رھا تھا ۔ ۔ ۔
میں نہ کبھی بھولوں گا توبہ ، میں نے دیکھا جو نظارہ
لعنت ! لعنت ! بول رھا تھا ، جنت کا ھر منظر پیارا ۔ ۔ ۔
موٹے موٹے پیٹوں والے ، بد صورت بد ہیئت ملا
سہمی ھوئی حوروں کے پیچھے ،بھاگ رھے تھے کہہ کہ ھا! ھا!!
بچ کے کہاں جائوگی؟ کہہ کے ، وہ دیوانے ناچتے گاتے
چاروں طرف سے گھیر کے ان کو ،ھنستے کودتے شور مچاتے ۔ ۔ ۔
ڈر کے چیخیں مار رھی تھیں ، حوریں ریشمی ساڑھیوں والی
ان کے دل دھک دھک کرتے تھے، دیکھ کے شکلیں داڑھیوں والی ۔ ۔
میں اور شیطاں لب بہ دعا تھے ، اے اللہ بچانا ان کو
اپنی رحمت کے پردے میں اے معبود چھپانا ان کو ۔ ۔ ۔۔
(راجا مہدی علی خان 1960)

نوٹ: شاید ریشمی ساڑھی کا لفظ ،مولانا مودودی کی اس منطق کی بنا پر لکھا گیا کہ انہوں نے حورون کی بابت یہ کہانی گڑھی تھی کہ حورین اصل میں کافروں اور ھندوئوں کی وہ کمسن بچیاں ھوں گی جو بلوغت سے پہلے بنا کسی گناہ کے مر گئیں