میں اور شیطان

راجا مہدی علی خان
جنت کی دیوار پہ چڑھ کے ، میں اور شیطاں دیکھ رھے تھے
جو نہ کبھی ھم نے دیکھا تھا، ھو کے حیران دیکھ رھے تھے ۔ ۔
وادی جنت کے باغوں میں ، اف توبہ اک حشر بپا تھا
شیطان کے ھونٹوں پہ ھنسی تھی ، میرا کلیجہ کانپ رھا تھا ۔ ۔ ۔
میں نہ کبھی بھولوں گا توبہ ، میں نے دیکھا جو نظارہ
لعنت ! لعنت ! بول رھا تھا ، جنت کا ھر منظر پیارا ۔ ۔ ۔
موٹے موٹے پیٹوں والے ، بد صورت بد ہیئت ملا
سہمی ھوئی حوروں کے پیچھے ،بھاگ رھے تھے کہہ کہ ھا! ھا!!
بچ کے کہاں جائوگی؟ کہہ کے ، وہ دیوانے ناچتے گاتے
چاروں طرف سے گھیر کے ان کو ،ھنستے کودتے شور مچاتے ۔ ۔ ۔
ڈر کے چیخیں مار رھی تھیں ، حوریں ریشمی ساڑھیوں والی
ان کے دل دھک دھک کرتے تھے، دیکھ کے شکلیں داڑھیوں والی ۔ ۔
میں اور شیطاں لب بہ دعا تھے ، اے اللہ بچانا ان کو
اپنی رحمت کے پردے میں اے معبود چھپانا ان کو ۔ ۔ ۔۔
(راجا مہدی علی خان 1960)

نوٹ: شاید ریشمی ساڑھی کا لفظ ،مولانا مودودی کی اس منطق کی بنا پر لکھا گیا کہ انہوں نے حورون کی بابت یہ کہانی گڑھی تھی کہ حورین اصل میں کافروں اور ھندوئوں کی وہ کمسن بچیاں ھوں گی جو بلوغت سے پہلے بنا کسی گناہ کے مر گئیں