ماں تو رونا نہیں ،ماں تو رونا نہیں

ڈاکٹر آکاش انصاری کی شہید نذیر عباسی کے لیے لکھی گئی سندھی نظم

ترجمہ ابراہیم صالح
ماں تو رونا نہیں ،ماں تو رونا نہیں ،
پاسبانان ظلمت کے ہاتھوں اگر ،
مرے گمگشتہ سب ساتھیوں کی طرح ،
گر میں مارا بھی جاؤں کہیں نہ کہیں ،
اشک گریاں سے پلکیں بھگونا نہیں ،
ماں تو رونا نہیں ،ماں تو رونا نہیں……
گر یہ شاہی قلعے کی فصیلیں تجھے ،
میری موجودگی کا پتہ بھی نہ دیں ،
اور دلائل کے منحوس زندان پر ،
منڈلاتی ہوئی گدھ چیلین تجھے ،
خوں آلودہ چونچوں سے محو متن ،
کچھ بتا بھی دیں ..
ماری ماری تھکی ، در بدر تو پھرے ،
شام غم بھی اگر ، تجھ کو یوں دیکھ کر ،
تیری حالت پہ پرسہ و ماتم کرے،
چاہے کچھ بھی ہو ماں ،
دامن ضبط ہاتھوں سے کھونا نہیں
ماں تو رونا نہیں ،ماں تو رونا نہیں……
یہ تقاضاۓ خوں عباسی ہے ماں،
جسم اپنے کو تحفے میں دوں کھرچیاں،
کب تلک بنر ذہن و ضمیر و زبان ،
کب تلک وطن پر وردیاں وردیاں ،
ایسے حالات میں ،جبر کی رات میں ،
چاہے کچھ بھی ہو ماں ،
دامن ضبط ہاتھوں سے کھونا نہیں ،
ماں تو رونا نہیں ،ماں تو رونا نہیں…..
(ترجمہ ابراہیم صالح)

ڇا ڪجي اهڙي دنيا کي (عبدالواحد آريسر)

 اهڙي دنيا جتي لذت جي مٺاڻ نه هجي، ڪنهن گناه جو سُرور نه هجي، ڪنهن نيڪي جي لطافت نه هجي، ڪنهن سزا جي اذيت نه هجي، ڪنهن تخليق جو درد نه هجي، ڪنهن چاھنا جي لذت نه هجي، ڪنهن خواهش جي گرمي نه هجي، ڪنهن ڪوشش جو جمال ۽ ناڪاميءَ جو ملال نه هجي…
اهڙي دنيا ڪنهن ملائڪ جي رهڻ جي لائق ته ٿي سگھي ٿي پر انسان لاءِ نه ….
هيءَ به نه وسارڻ گھرجي ته زندگي رڳو ٽهڪ ناهي ۽ نه وري رڳو ڳوڙهو…
زندگي ٽهڪ به آهي، ڳوڙهو به آهي، چُميءَ جي مٺاڻ به آهي ۽ ٿوهر جو گرھه به …
(عبدالواحد آريسر)
اردہ میں ترجمہ
خاک میں جائے ایسی دنیا کہ جس میں :
نہ لذت کی چاشنی ھو نہ کسی گناہ کا سرور ، نہ کسی نیکی کی لطافت ہو نہ کسی سزا کی اذیت ، جہاں کسی تخلیق کا درد نہ ہو ، نہ کسی چاھت کی تمنا ، نہ کسی خواہش کی گرمی ہو نہ کسی کاوش کا جمال نہ ھی کسی ناکامی کا ملال ہو۔
ایسی دنیا مسکن ملائک تو ہو سکتی ھے کسی انسان کا استھان نہیں ۔ ۔
یہ بھی نہیں بولنا چاہیئے کہ زندگی محض ایک قہقہہ نہیں اور نہ ہی محض سیل اشک ۔ ۔
زندگی قہقہہ بھی ہے ، اشک رواں بھی ، بوسے کی چاشنی بھی ھے تو کانٹوں بھرا نوالہ بھی ۔ ۔
(عبدالواحد آريسر)
نوٽ؛ مٿيون ٽڪرو سوشل ميڊيا تان ورتل آهي

میں اور شیطان

راجا مہدی علی خان
جنت کی دیوار پہ چڑھ کے ، میں اور شیطاں دیکھ رھے تھے
جو نہ کبھی ھم نے دیکھا تھا، ھو کے حیران دیکھ رھے تھے ۔ ۔
وادی جنت کے باغوں میں ، اف توبہ اک حشر بپا تھا
شیطان کے ھونٹوں پہ ھنسی تھی ، میرا کلیجہ کانپ رھا تھا ۔ ۔ ۔
میں نہ کبھی بھولوں گا توبہ ، میں نے دیکھا جو نظارہ
لعنت ! لعنت ! بول رھا تھا ، جنت کا ھر منظر پیارا ۔ ۔ ۔
موٹے موٹے پیٹوں والے ، بد صورت بد ہیئت ملا
سہمی ھوئی حوروں کے پیچھے ،بھاگ رھے تھے کہہ کہ ھا! ھا!!
بچ کے کہاں جائوگی؟ کہہ کے ، وہ دیوانے ناچتے گاتے
چاروں طرف سے گھیر کے ان کو ،ھنستے کودتے شور مچاتے ۔ ۔ ۔
ڈر کے چیخیں مار رھی تھیں ، حوریں ریشمی ساڑھیوں والی
ان کے دل دھک دھک کرتے تھے، دیکھ کے شکلیں داڑھیوں والی ۔ ۔
میں اور شیطاں لب بہ دعا تھے ، اے اللہ بچانا ان کو
اپنی رحمت کے پردے میں اے معبود چھپانا ان کو ۔ ۔ ۔۔
(راجا مہدی علی خان 1960)

نوٹ: شاید ریشمی ساڑھی کا لفظ ،مولانا مودودی کی اس منطق کی بنا پر لکھا گیا کہ انہوں نے حورون کی بابت یہ کہانی گڑھی تھی کہ حورین اصل میں کافروں اور ھندوئوں کی وہ کمسن بچیاں ھوں گی جو بلوغت سے پہلے بنا کسی گناہ کے مر گئیں

Assan Teray Peechay Deen Tay Emaan Chhaddhiya – Manjhi Faqeer

اسان تيري پيڇي دِين تي ايمان ڇڏيا
اساں تیرے پچھے دین تے ایمان چھڈیا
تم حیا اور شریعت کی بات کرتے ہو
ہم نے ننگے جسموں کو ملبوس حیا دیکھا ہے
ہم نے دیکھے ہیں، احرام میں چھپے ہزاروں ابلیس
ہم نے مے خانے میں سو بار خدا دیکھا ہے
اساں تیرے پچھے
چھڈیا مندر تے مسیتاں، دو جہاں چھڈیا
اساں غازہ تیرا ویکھ کے نمازاں چھڈیاں
اساں چہرہ تیرا ویکھ کے قرآن چھڈیا
سانوں او ہو رب چنگا جھیڑا دسےبول کے
اوس رب کولوں کی لینا جھیڑا مارے رول کے
جھوٹے کوڑے رب کولوں آناں جاناں چھڈیا
ناتا نہیا والا نیناں نال جھوڑنا
نا میں دوزخ وڑدا او جنت جاناں چھڈیا
اساں تیرے پچھے دین تے ایمان چھڈیا

Courtesy: Youtube

مارکسزم ، خواب، انحراف – وجاہت مسعود

حقیقی چیلنج یہ ہے کہ منڈی کی معیشت اور جمہوری سیاست میں غریب، بے وسیلہ اور پچھڑے ہوئے انسانوں کے مفاد کا تحفظ کیسے کیا جائے۔ ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں معیشت میں خام مال اور افرادی قوت کی اہمیت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ بڑی سرمایہ کار کمپنیاں اپنے معاشی اثر و نفوذ میں ریاستوں سے بھی زیادہ طاقتور ہو رہی ہیں۔ ایسے میں معیشت کی آزادی اور فرد کی محرومی میں توازن کیسے پیدا کیا جائے۔ سرمایہ کی ماورائے اخلاق یلغار کے سامنے وہ کون سا سیاسی بند و بست پیش کیا جائے جو آزادی اور انصاف میں مطلوبہ توازن قائم کر سکے۔ مارکس کا خواب زندہ ہے، زمینی حقائق بدل گئے ہیں۔ چنانچہ اس خواب کی تعبیر کے لئے نیا نسخہ دریافت کرنا ہوگا۔
نوٹ: یہ ٹکڑا سوشل میڈیا سے لیا گیا ہے