مارکسزم ، خواب، انحراف – وجاہت مسعود

حقیقی چیلنج یہ ہے کہ منڈی کی معیشت اور جمہوری سیاست میں غریب، بے وسیلہ اور پچھڑے ہوئے انسانوں کے مفاد کا تحفظ کیسے کیا جائے۔ ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں معیشت میں خام مال اور افرادی قوت کی اہمیت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ بڑی سرمایہ کار کمپنیاں اپنے معاشی اثر و نفوذ میں ریاستوں سے بھی زیادہ طاقتور ہو رہی ہیں۔ ایسے میں معیشت کی آزادی اور فرد کی محرومی میں توازن کیسے پیدا کیا جائے۔ سرمایہ کی ماورائے اخلاق یلغار کے سامنے وہ کون سا سیاسی بند و بست پیش کیا جائے جو آزادی اور انصاف میں مطلوبہ توازن قائم کر سکے۔ مارکس کا خواب زندہ ہے، زمینی حقائق بدل گئے ہیں۔ چنانچہ اس خواب کی تعبیر کے لئے نیا نسخہ دریافت کرنا ہوگا۔
نوٹ: یہ ٹکڑا سوشل میڈیا سے لیا گیا ہے